میرٹھ29؍مارچ (ایس او نیوز) بی جے پی کے لئے انتخابی تشہیری مہم کا آغاز ایک دن میں تین ریالیوں کے ساتھ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرا مودی نے حزب اختلاف کی پارٹیوں کے تعلق سے فقرے بازی تیز کردی ہے اور عوام کو جذباتی طور پر متاثر کرنے کے لئے علی الاعلان یہ کہا ہے کہ مخالف پارٹیاں ’’پاکستان میں ہیرو بننے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔وہاں انہیں بہت زیادہ میڈیا کوریج اور شاباشی مل رہی ہے۔‘‘
جمعرات کے دن میرٹھ ، رودراپور اورجموں میں وزیر اعظم نے انتخابی ریالیاں کیں۔انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گرد اور ان کے حمایتی سرحد کے اُس پاردعائیں کررہے ہیں کہ کسی بھی طرح چوکیدار (خود کی طرف اشارہ)سے چھٹکارا مل جائے اورمہا ملاوٹی(مخالف پارٹیوں کے مہاگٹھ بندھن کی طرف اشارہ) دہلی میں برسراقتدار آجائیں۔‘‘
ہندوستان کا ہیرو چاہیے یا پاکستان کا؟: میرٹھ میں خطاب عام کے دوران وزیر اعظم نریندرا مودی نے کہا کہ:’’ یہ سارے مہا ملاوٹی لوگ اس مقابلے میں لگ گئے ہیں کہ آج پاکستان میں کون زیادہ مشہور ہوجائے گا اور کون ہیرو بنے گا۔ یہ لوگ وہاں کی میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ان کے نام کی پاکستان میں تالیاں بج رہی ہیں۔آپ بتائیے دیش کو ہندوستان کا ہیرو چاہیے یا پاکستان کا؟‘‘
’سراب‘ برباد کردے گی: نریندرا مودی نے فقرے کسنے کی اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتر پردیش میں بی جے پی مخالف سماج وادی پارٹی، راشٹریہ لوک دل اور بہوجن سماج پارٹی کے گٹھ جوڑ پر نشانہ سادھتے ہوئے ان پارٹیوں کے ناموں میں سے ابتدائی حروف لے کر انہیں’’سراب‘‘ (شراب کے معنی میں )کہا۔ بعد میں مودی نے یہ بھی کہا کہ ’’سراب صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔یہ آپ کو برباد کردے گی۔ اس لئے اس سے بچنا چاہیے ۔‘‘
’ثبوت‘ چاہیے یا ’سپوت‘؟: جموں کے اکھنور میں خطاب کے دوران بالاکوٹ پر ایئر اسٹرائک کے پس منظر میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’’سرحد کے اُس پار دہشت گردی کے کارخانے چلانے والے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ وہ اب سایے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔‘‘کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا :’’ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔ کیا یہی وہ کانگریس ہے جس کے لیڈر ولبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور نیتاجی سبھاش چندر بوس نے آزاد ہندوستان کا نعرہ دیا تھا؟‘‘انہوں نے کہا کہ مودی سے نفرت کی وجہ سے کانگریسی لیڈران نے قومی مفادات کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کا ثبوت مانگے جانے پراپوزیشن پارٹیوں کے خلاف ہلّہ بولتے ہوئے نریندرا مودی نے کہا:’’ کیا ہمیں ثبوت چاہیے یا سپوت (قابل فخر اور نیک نام بیٹے) چاہیے۔میرے دیش کے سپوت( فوجی جوان)یہی میرے دیش کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ جو ثبوت مانگتے ہیں وہ سپوت کو للکارتے ہیں۔‘‘
دَم دار چوکیدر!: اپنے آپ کو ’دَم دار‘ (طاقتور) ’چوکیدار‘ قرار دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ ’داغ دارچوکیدار‘ کے خلاف ہیں ۔ اپوزیشن کا مذاق اڑاتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں’’مودی نے دہشت گردوں کو ان کے اپنے گھر پاکستان میں جاکر کیوں مارا؟ مودی نے ان کے کیمپس کیوں تباہ کیے؟‘‘ خلا ء میں سیٹلائٹ مار گرانے کا کامیاب تجربہ کرنے پر اپوزیشن نے جو ریمارکس کیے تھے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی کا نام لیے بغیر وزیراعظم نے طنزیہ فقرے کسے اور کہا :’’ یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں تھیٹر کے ’سیٹ‘ او ر’ اے سیٹ‘ (ASAT) کا فرق نہیں معلوم ہے۔ یہ لوگ سمجھے کہ میں تھیٹر کے سیٹ کی بات کررہا تھا۔‘‘
خیال رہے کہ ڈی آر ڈی اوکے سائنسدانوں نے اینٹی سیٹلائٹ میزائیل کے ذریعے خلا ء میں وار کرنے کا جو تجربہ کیاتھا اس کا اعلان وزیراعظم نریندرا مودی نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں کیا تھا۔ اس پر چٹکی لیتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس کامیاب تجربے پر سائنسدانوں کومبارکباد دینے کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی یہ کہہ کر مبارکباد دی تھی کہ ورلڈ تھیٹر ڈے مبار ک ہو!
’سراب‘ پر اپوزیشن چراغ پا: ایس پی ، آر ایل ڈی اور بی ایس پی کے گٹھ بندھن کو ’سراب‘کہتے ہوئے شراب کے معنے میں پیش کرنے پر اپوزیشن پارٹیاں چراغ پا ہوگئی ہیں۔ کانگریس نے ایسی گھٹیا فقرے بازی کے لئے وزیر اعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسے جمہوری نظام کی تذلیل قرار دیتے ہوئے پوچھاہے کہ کیا ایک وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والی شخصیت کو اس طرح کی گھٹیا جملے بازیاں زیب دیتی ہیں۔کیا یہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی ہوئی خلاف ورزی نہیں ہے۔
فلاپ فلم کا فلاپ ایکٹر: کانگریس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ کے چیف رندیپ سورجے والا نے کہا’’ملک کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں کو شراب سے تشبیہ دے کر وزیراعظم نے جمہوریت کا مضحکہ اڑایا ہے۔ ملک کے عوام اور خاص کر اتر پردیش کی جنتا انہیں معاف نہیں کرے گی۔وزیر اعظم کے پاس مخالف پارٹیوں کے بے عزتی کرنے کے سوا عوام کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے ایک فلاپ فلم کے فلاپ اداکار کی طرح نت نئے مخفف الفاظ گھڑ لیتے ہیں۔ بی ایس پی کی چیف مایاوتی نے اسے مودی کی’ذات پات پر مبنی بد دماغی کا مظہر‘ اور وزیر اعظم کے وقار اور مرتبے کے منافی قرار دیا ہے۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ اس تبصرے سے نریندرامودی کا وہ خوف اورذہنی پریشانی ظاہر ہوتی ہے جو اپوزیشن کی اتحاد کی وجہ سے انہیں لاحق ہوگیا ہے۔
یہ بی جے پی کا ’سراب‘ ہے : جبکہ ایس پی کے لیڈر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ ’’ جو لوگ نفرت کے نشے کو فروغ دیتے ہیں‘‘ انہیں ’شراب‘ اور ’سراب‘ کا فرق معلوم نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ’سراب‘ کا اصل مطلب ریگستان میں دھوپ کی شدت سے چمکنے والی ریت پر پانی کا گمان ہونا ہے ۔ ’نظروں کا دھوکا‘کے معنی میں لفظ سراب کا استعمال ہوتا ہے۔اکھلیش نے ردعمل میں ’سراب‘ کا صحیح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ’’ گزشتہ پانچ برسوں میں بی جے پی نے صرف دھندلے خواب دکھائے ہیں جو کبھی پورے نہیں کیے گئے۔ اور اب الیکشن کے موقع پر عوام کو ’سراب ‘ دکھانے آ گئے ہیں۔‘‘